ایلیّاہؔ نے بعل کے نبیوں کا مذاق اُڑایا:
بُلند آواز سے پُکارو کیونکہ وہ تو دیوتا ہے۔ وہ کِسی سوچ میں ہو گا یا وہ خلوت میں ہے یا کہِیں سفر میں ہو گا یا شاید وہ سوتا ہے۔ سو ضرُور ہے کہ وہ جگایا جائے۔
١۔سلاطین 18:27
اَے خُداوند کب تک؟ کیا تُو ہمیشہ مُجھے بُھولا رہے گا؟ تُو کب تک اپنا چہرہ مُجھ سے چِھپائے رکھّے گا؟
زبور 13:1
Revised Urdu Holy Bible © Pakistan Bible Society, 1970, 2010